{"product_id":"khuli-tareekh-کُھلی-تاریخ","title":"Khuli Tareekh- کُھلی تاریخ","description":"\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eمصنفہ : ڈاکٹر حِنا جمشید\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eکتاب کی تفصیل:\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eادب سے جھلکتا ہمارا ماضی\u003c\/span\u003e\u003cbr data-mce-fragment=\"1\"\u003e\u003cspan data-mce-fragment=\"1\"\u003eاس کتاب کو لکھنے کی واحد وجہ اس تاریخ پاکستان کی تفہیم تھی جو اپنے مخمصوں کے باعث ابتدا ہی سے کئی طرح کا ابہام اور پیچیدگیاں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مابعد جدیدیت کے زیر اثر نو تاریخیت کے تنقیدی رجحان کے معاونتی مطالعے نے میرے لیے اس تفہیم کو مزید دلچسپ بنادیا۔ ادب، ثقافت اور تاریخ کی اس باہمی آمیزش کے سبب پاکستان کی مختصر مگر جامع تاریخ اس لیے بھی اہم ہو جاتی ہے کہ اس میں ہمارے تخلیقی ضمیر کا وہ رنگ شامل ہے جو پاکستان کے منتخب ادبا کے تخلیقی مُتون میں کہیں پوشیدہ تو کہیں عیاں، تاریخی بیانیوں کی تفہیم میں ہمیں ماضی کے اس عہد سے روشناس کراتا ہے، جس کی پر پیچ راہ گزر سے گزر کر ہم یہاں تک پہنچے ہیں ۔ تاریخ میں ڈوبنے اور ابھرنے کا یہ ایسا دلگداز مرحلہ تھا، جس نے مجھے کئی کئی دن تک ماضی کو ادبی و تاریخی متون کے جھروکوں سے کہیں حیرت تو کہیں غم سے دیکھنے پر مجبور کیا۔ ماضی کے شش جہات میں پھیلاؤ کے سبب اس موضوع کی وسعت کو دریا کی طرح کوزے میں بند کر دینا میرے لیے سب سے دُشوار امر تھا، پر صد شکر کہ ایک کڑے اور منتخب معروضی مطالعے کے سبب یہ مرحلہ دشوار بھی آخر کار طے ہوا اور پاکستان کی کئی سالہ تاریخ کے اہم واقعات کا احاطہ ممکن ہو پایا ـ\u003c\/span\u003e\u003cbr\u003e","brand":"ILM-O-IRFAN PUBLISHERS","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48457934930103,"sku":null,"price":1800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0743\/9718\/8279\/files\/KHULITREKH.jpg?v=1778519504","url":"https:\/\/maktabasani.com\/products\/khuli-tareekh-%da%a9%d9%8f%da%be%d9%84%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae","provider":"Maktaba Sani","version":"1.0","type":"link"}